بلوچستان کی انسداد دہشت گردی کی رپورٹ کے مطابق 707 دہشت گرد مارے گئے اور 202 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔
بلوچستان کی انسداد دہشت گردی کی رپورٹ کے مطابق 707 دہشت گرد مارے گئے اور 202 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

بلوچستان انسداد دہشت گردی رپورٹ، ایک سال میں 78,000 ہزار انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز، 707 دہشت گردوں کو ہلاک اور 202 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

محکمہ داخلہ بلوچستان نے انسداد دہشت گردی کی ایک جامع رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران صوبے بھر میں کیے گئے آپریشنز کے دوران 707 دہشت گرد ہلاک اور 202 سیکیورٹی اہلکار شہید ہوئے۔

کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان حمزہ شفقت نے ڈی آئی جی کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) اعتزاز گورایہ کے ہمراہ بتایا کہ انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر سال کے دوران 78,000 انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز (IBOs) کیے گئے۔

حمزہ شفقت نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کے 202 جوان شہید ہوئے، دہشت گردی کے واقعات میں 280 شہری بھی شہید ہوئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خاران میں حالیہ کارروائی کے دوران تین دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔

ایڈیشنل ہوم سیکرٹری نے بتایا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں بہتر حکمت عملی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر ہم آہنگی کی وجہ سے سکیورٹی فورسز پر حملوں میں کمی آئی ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ دہشت گرد گروہوں نے تیزی سے اپنی توجہ عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی طرف مبذول کر لی ہے۔

انہوں نے امریکہ کی طرف سے بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کو سال کی سب سے اہم کامیابی قرار دیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس میں ملوث افراد دہشت گردی پاکستان کے خلاف بیرون ملک کارروائی کرتے ہوئے انٹرپول کے ذریعے کارروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل نومبر میں ڈی جی آئی ایس پی آر، پشاور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 2025 میں ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کے 62,113 آپریشن کیے گئے، اوسطاً روزانہ 208 آپریشن ہوئے۔ اگرچہ سب سے زیادہ آپریشن بلوچستان میں ہوئے لیکن ہلاکتیں خیبرپختونخوا میں زیادہ ہوئیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق رواں سال پاکستان بھر میں دہشت گردی کے 4 ہزار 373 واقعات رپورٹ ہوئے جن کے نتیجے میں 1,667 دہشت گرد مارے گئے اور 1,073 افراد شہید ہوئے جن میں 584 فوجی اہلکار، 133 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران اور 356 عام شہری شامل تھے۔

انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے 514 واقعات ہوئے جن میں 77 دہشت گرد ہلاک اور 198 افراد شہید ہوئے۔ ملک بھر میں مارے گئے دہشت گردوں میں 128 افغان شہری تھے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید کہا کہ انسداد دہشت گردی کی یہ کارروائیاں پاک فوج، رینجرز اور انٹیلی جنس ایجنسیاں مشترکہ طور پر کر رہی ہیں۔